گلگت بلتستان کے تعلیمی نتائج اور مسائل ، اقبال ساقی

گلگت بلتستان میں پانچویں اور آٹھویں جماعت کے نتائج دیکھ کر صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام مسائل کا شکار ہے۔ یہ صرف طلبہ، اساتذہ یا والدین کی ذمہ داری نہیں، بلکہ پورا معاشرہ اس کا حصہ دار ہے۔ میری تحقیق کے مطابق اس صورتحال کے پیچھے کئی وجوہات ہیں:

1. امتحانات کا غلط وقت پر انعقاد:
امتحانات سردیوں کی چھٹیوں سے پہلے رکھے گئے، جس کی وجہ سے طلبہ اپنی تیاری مکمل نہیں کر سکے۔ امتحانات کو سردیوں کی چھٹیوں کے بعد رکھا جانا چاہیے تھا، کیونکہ طلبہ چھٹیوں کے دوران سکون سے اپنی تیاری مکمل کرتے ہیں اور بہتر طریقے سے امتحانات میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

2. اساتذہ کی غیر ذمہ داری:
بہت سے اساتذہ اسکول میں اپنی ذمہ داریاں پوری طرح ادا نہیں کرتے۔ کچھ تو اسکول آتے ہی نہیں، اور جو آتے ہیں وہ محض وقت گزراتے  ہیں۔ اگر طلبہ پڑھائی میں دلچسپی نہ لیں تو اساتذہ کو والدین کو آگاہ کرنا چاہیے، لیکن  یہ بھی نہیں کیا جاتا۔

3. طلبہ کی اپنی لاپرواہی:
طلبہ کو اپنی تعلیم کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے۔ وہ اپنا قیمتی وقت ضائع کر رہے ہیں اور تعلیم پر توجہ نہیں دے رہے، جو ان کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ہے۔

4. والدین کی عدم  توجہ  :
والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیمی کارکردگی پر نظر رکھیں اور وقتاً فوقتاً اساتذہ سے رابطے میں رہیں۔ بدقسمتی سے، بہت سے والدین اپنے بچوں کی تعلیم کی نگرانی نہیں کرتے۔

5. ایک اور سب سے بڑا مسئلہ بچوں کو موبائل فون دینا ہے : 
 موبائل فون کی وجہ سے نہ صرف وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ بچے دن بدن تعلیم سے بھی دور ہوتے جا رہے ہیں۔ موبائل پر سوشل میڈیا، گیمز، اور غیر ضروری ویڈیوز دیکھ کر بچوں کی توجہ پڑھائی سے ہٹ جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ان کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے اور وہ تعلیم کی اہمیت کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کے موبائل فون کے استعمال پر نظر رکھیں اور ان کی پڑھائی کو ترجیح دینے کے لیے مناسب رہنمائی فراہم کریں۔ اس کے ساتھ ہی بچوں کو تعلیمی سرگرمیوں میں مشغول کرنے کی کوششیں کی جائیں تاکہ وہ اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز کر سکیں۔

 6  . معاشرتی غفلت:
ہر سال خراب نتائج کے باوجود معاشرہ خاموش رہتا ہے۔ نہ تو حکومت سے اصلاحات کی اپیل کی جاتی ہے، نہ ہی تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی کوئی سنجیدہ کوشش کی جاتی ہے۔ یہ سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں۔

بہت سے اسکول ایسے ہیں جہاں ایک بھی طالب علم پاس نہیں ہوتا، اور ان اسکولوں میں دس سے پندرہ اساتذہ بھی موجود ہیں۔ ایسے اساتذہ کا کیا فائدہ ہے جو ایک بھی طالب علم کو صحیح طریقے سے پڑھا کر کامیاب نہیں کروا سکتے؟ اس کے برعکس، کچھ اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کی وجہ سے تعلیمی معیار پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

گلگت بلتستان میں پانچویں جماعت میں 28.63% اور آٹھویں جماعت میں 40.78% کامیابی کی شرح ہے، جو کہ تعلیمی معیار کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

حل:
ہمیں بطور قوم، اتفاق اور اتحاد کے ساتھ اس نظام کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ اساتذہ، طلبہ، والدین، اور معاشرے کے تمام افراد کو مل کر اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہوں گی۔ اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو ہم نہ صرف موجودہ مسائل حل کر سکتے ہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک مضبوط تعلیمی نظام بھی قائم کر سکتے ہیں۔

آنے والا وقت Artifical  intelligence کا ہے اور دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ ہم سیاست، مذہب یا دوسروں پر تنقید کرنے کے بجائے ایک دوسرے کی مدد کریں اور مل کر مسائل حل کریں۔ ہر شخص کو اپنی ذمے داری سمجھنی چاہیے اور اتحاد کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔

ہمیں اپنی مہارتیں بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے اور اپنے بچوں کو نئی سکلز سکھانی چاہیے تاکہ وہ زندگی کی مشکلات کا بہتر طریقے سے سامنا کر سکیں۔ ہمیں مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے معاشرتی مسائل حل کر سکیں اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل بنا سکیں۔

تعلیم ہماری ترقی کی بنیاد ہے، اور ہمیں اس کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
شکریہ میری  بات  سنے کے لئے وسلام اظہر خان ساقی ( رٹو )
اسٹوڈنٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی

Comments

  1. I sincerely thank you for including me in your blog post and appreciating my work. This support encourages me to work harder and stay dedicated. Opportunities like this help me improve my skills and inspire others as well. Thank you to your whole team for recognizing my efforts.

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

Poor Board Exams Results in Gilgit Baltistan by Dr Rizwan Karim

Election Commisison Gilgit-Baltistan, Important Announcement - ETC(HEC),Pakistan

𝐘𝐨𝐮𝐭𝐡 𝐈𝐧𝐭𝐞𝐫𝐧𝐬𝐡𝐢𝐩 𝐏𝐫𝐨𝐠𝐫𝐚𝐦𝐦𝐞 (𝐁𝐚𝐥𝐭𝐢𝐬𝐭𝐚𝐧) AKRSP