گلگت بلتستان کے معاشی مشکلات اور ان کا حل
گلگت بلتستان کے معاشی مشکلات اور ان کا حل
جب بھی ہم گلگت بلتستان کا نام سنتے ہیں جو پہلی چیز ہمارے دماغ میں آتی ہے وہ ہے حسین وادیاں،لہلہاتے سرسبزوشاداب میدان،آسمان کو چھوتے اور برف کی سفید چادروں سے ڈھکے پہاڑ ،گلیشئرز،صاف و شفاف جھیلیں،خاموش آبشاریں آسان الفاظ میں اگر کہا جائے تو گلگت بلتستان خوبصورتی کا استعارہ ہے۔بیک وقت ہمارا زہن ایک اور خیال میں ڈوب جاتا ہے جو اس علاقے کے لوگوں کی احساس کمتری،غریبی،زندگی کی بنیادی ضروریات سے محرومی ہے۔لوگ گلگت بلتستان کو دنیاں میں جنت سے تشبیح دیتے ہیں اور ستم ظریفی دیکھئے کہ آج بھی اس جنت کے ٹکڑے کے باسی جدید دنیا سے صدیوں پیچھے جی رہے ہیں۔صحت،تعلیم،قانون کی حکمرانی ،میرٹ،معاشی انصاف،معاشرتی تحفظ ،روزگار کے مواقع کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔
یکم نومبر 1947 میں ڈوگرہ راج سے اپنی مدد آپ آزادی حاصل کرنے کے بعد گلگت بلتستان 16 دن تک الگ ریاست رہی اور پھر غیر مشروط طور پاکستان میں شمولیت اختیار کیا۔شروع میں گلگت بلتستان پر ایف سی آر کا قانون لاگو رہا۔1974 ایف سی آر کو ختم کیا گیا اور شمالی علاقہ جات پر علاقائی شورا کے زریعے وفاق سے راج کیا گیا۔آگے چل کر 2009 میں پارلیمنٹ سے گلگت بلتستان آرڈر 2009 پاس ہوا اور گلگت بلتستان کو عارضی صوبائی حیثییت دی گئی ۔
عارضی صوبائی حیثیت ملنے کے بعد یہ توقع کی جارہی تھی کہ اس سے عام لوگوں کی زندگیاں بہتر ہوجائنگی۔لوگوں کی زندگی تو خیر کیا بہتر ہونی تھی اس سے گلگت بلتستان کے غیر ترقیاتی اخراجات آسمان سے باتیں کرنے لگی۔کوئی نئی آمدنی کے بغیر گورنر،وزیراعلی،وزرا،مشیران،سیکریٹریز اور بہت سوں کے مزید خرچے صوبے پر مسلط ہوئے۔گلگت بلتستان لگ بھگ 15 سے 20 لاکھ باسیوں کا گھر ہے جو 72000 مربع کلو میٹر رقبے پر مشتمل ہے جو سالانہ ترقیاتی اور غیرترقیاتی فنڈز کی مد میں تقریباً 70 سے 80 ارب روپے خرچ کرتا ہے۔ستم ظریفی ہے کہ اتنی خوبصورتی ،سیاحوں کی بہترین منزل،قدرتی وسائل سے مالامال ہونے کے بوجود اس صوبے کی اپنی سالانہ آمدنی 3 ارب سے بھی کم ہے۔یہاں ہم ان عناصر پر غور کرینگے جن کے زریعے گلگت بلتستان اپنی سالانہ آمدنی بڑھا سکتا ہے اور اپنے اخراجات کیلئے وفاق پر انحصار کم سے کم کر سکتا ہے۔
سیاحت
گلگت بلتستان دل کو لبھانے والے خدوخال،حسین وادیوں ،سرسبزوشاداب میدان،آسمان کو چھوتے ،برف کی چادروں سے ڈھکے پہاڑ،گلیشئرز،صاف و شفاف جھیلوں اور خاموش آبشاروں کے مسکن سے جانا جاتا ہے۔حکومت گلگت بلتستان سے سیاحت کے فروغ سے اپنی آمدنی میں ہوشربا اضافہ کر سکتی ہے۔غیر مقامی سیاحوں سےداخلہ فیس،ٹول ٹیکس،رہائشی ٹیکس،سیاحتی اشیاء پر ٹیکس کا انتظام ناگزیر ہے۔ایک اندازے کہ مطابق گزشتہ برسوں میں سیاحوں کی امد کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ سیاحت کی مد میں گلگت بلتستان اپنی سالانہ آمدنی میں تین سے چار ارب روپےکا اضافہ کر سکتا ہے۔اس آمدنی کو زیر استعمال لا کر سیاحتی مقامات کو مزید بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ سرمائی سیاحت کو فروغ دیا جاسکتا ہے ۔بابوسر پاس،وادی نلتر،فیریمیڈوز،دیوسائی وغیرہ کو سرمائی سیاحت کا مرکز بنایا جا سکتا ہے جس سے گلگت بلتستان مزید ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنے گا۔اس طرح سیاحوں کی تعداد جوں جوں بڑھے گی آمدنی میں اضافہ ہوتا جائے گا۔
معدنیات
گلگت بلتستان معدنی وسائل جیسے ماربل،گرینائٹ ،جمسٹون،اور بہت سے قیمتی دھاتوں سے لبالب بھرا ہوا ہے ۔معدنیات پر ٹیکس ،رائلٹی اور لائسنس فیس کی مد میں بہت اجھی آمدن بنائی جا سکتی ہے۔حکومت کو چاہئے کہ کانکنوں کو سہولت فراہم کرے۔جدید صنعت و حرفت متعارف کرائے جس سے خام جواہرات کو تیار مصنوعات میں بدل کر مارکیٹ میں بیچا جا سکے گا جس سے علاقے کی آمدنی میں آضافہ ہوگا۔
پن بجلی
بہت سے دریا اور پانی کے بے تحاشہ وسائل کی موجودگی کی وجہ سے گلگت بلتستان میں پن بجلی پیدا کرنے کی خاطر خواہ استطاعت موجود ہے۔ایشیائی ترقیاتی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان میں 56 ہزار میگاواٹ سے زیادہ پن بجلی پیدا کرنے کی استطاعت موجود ہے۔حکومت شفاف اور موثر بلنگ کا نظام متارف کرا کر موجودہ بجلی گھروں سے اچھی آمدن حاصل کر سکتی ہے جس سے نئے بجلی گھر بنائے جا سکتے ہیں ۔نتیجتہً جو ضرورت سے اضافی بجلی پیدا ہوگی وہ حکومت پاکستان کو بیچ کر مزید امدنی بڑھائی جا سکتی ہے۔
زراعت
پانی کے بے تحاشہ وسائل اور ہزاروں ایکڑ پر مشتمل بنجر زمین کے ہوتے ہوئے گلگت بلتستان خوراک کی کمی کا شکار ہے۔گلگت بلتستان اپنی اشیاء خوردونوش کی ضروریات پوری کرنے کے لئے پاکستان کے دوسرے صوبوں پر انحصار کرتا ہے۔اگر قراقرم ہائی وے ایک ہفتے کیلئے بند ہو جائے تو گلگت بلتستان قحط کا شکار ہوجائگا۔حکومت گلگت بلتستان کو زرعی ترقی پر توجہ مرکوز کرنا چاہیے جس سے صوبہ خوراک کے تحفظ کے حوالے سے خودمختار ہوجائے گا۔ مزید جو پیسہ دوسرے صوبوں سے خوراک خریدنے پر خرچ ہوتا ہے وہ صوبے میں ہی گردش کرے گا۔زرعی شعبے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے بعد زرعی شعبے پر ٹیکس کا نظام متعارف کرا کر صوبے کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
صنعتیں
گلگت بلتستان میں صنعتی کلچر کو متعارف کرایا جا سکتا ہے اب تک گلگت بلتستان میں کوئی ایک صنعت بھی آپریشنل نہیں ہے ۔حکومت گلگت بلتستان کو وفاقی حکومت کے تعاون سے سی پیک کی چھتری تلے ایک اقتصادی زون کا قیام عمل میں لانا چاہئے ۔مزید نجی شعبہ کو گلگت بلتستان میں سرمایہ کاری کرنے ہر مائل کیا جائے ۔گلگت میں معدنیات اور لکڑ کی صنعتوں کی خاطر خواہ استطاعت موجود ہے۔نجی شعبے کی ترقی صوبے کے بے روزگار باسیوں کو روزگار فراہم کرے گی بالآخر صوبے کی آمدنی میں آضافہ ہوگا اور علاقے کے لوگوں کی زندگیاں بہتر ہو جائنگی۔
ٹیکس
مزید براں ٹیکس کا ایک شفاف نظام متعارف کرانے کی ضرورت ہے جس میں تنخوادار طبقہ،ہوٹل انڈسٹری،تعمیراتی شعبہ ،بڑے تاجر اور بڑے کسانوں کو شامل کیا جائے اس سے صوبے کی آمدنی میں بہت زبردست اضافہ ہو سکتا ہے۔نتیجتہً حکومت گلگت بلتستان کے پاس وفاقی حکومت سے ملنے والے فنڈ کے علاوہ اپنی بھی ایک خاطرخواہ آمدن موجود ہوگی۔اس رقم کو بے احسن علاقے کے انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ ، لوگوں کی صحت،تعلیم،اور سوشل سیکٹر کو بہتر سے بہتر بنانے پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔درج بالا اصلاحات پر عمل کر کے حکومت گلگت بلتستان آنے والے سالوں میں اپنی سالانہ آمدنی میں 25 سے 30 ارب روپے کا ضافہ کر سکتی ہے۔
بقلم انجینئر زاہد نواز عادل
Comments
Post a Comment